11 جولائی 2026 - 15:47
انتقام حتمی ہے/ مجرمین پر سکون موت کی آرزو، قبروں میں  لے کر جائیں گے ، رہبرِ انقلاب

انقلابِ اسلامی کے رہبرِ معظمِ  نے 'آقائے شہیدِ ایران' کی تشییع و تدفین کے موقع پر ایک پیغام میں فرمایا: ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم مجرم اور بےآبرو قاتلوں سے، آپ کے پاکیزہ خون اور ان دو جنگوں کے تمام شہداء کا انتقام  لیں گے۔ یہ انتقام، ہماری ملت کا مطالبہ ہے اور یقیناً اسے انجام پائے گا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ انقلابِ اسلامی کے رہبرِ معظمِ حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے رہبر انقلاب اسلامی، ایران کے آقائے شہید، امامِ شہیدِ امت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای (قَدَّسَ اللہُ نَفسَہُ الزَّکِیۃَ) کی تشییع و تدفین کے موقع پر ایک پیغام جاری کیا۔

‌بسم‌ الله ‌الرّحمن الرّحیم

السَّلامُ‌ عليك يا ثارَاللهِ وَ‌ابنَ ثَارِهِ وَالوِترَ المَوتور

السَّلامُ‌ عَلَيكَ وَعَلَی جَدِّكَ وَاَبيكَ وَاُمِّكَ وَاَخيكَ وَالمَعَصُومينَ مِن وُلدِكَ

سلام ہو اس امامؑ پر جس کے حیات بخش قیام و انقلاب کی پکار نے بعثت نبویؐ کی عظیم گونجتی ہوئی بازگشت کو تاریخ کی اتہاہ گہرائیوں تک پھیلا دیا اور اسی کے اثر سے ایران کا اسلامی انقلاب معرض وجود میں آیا۔ وہ انقلاب جو اپنی بنیاد سے حسینیؑ تھا اور حسینؑ کے شعار اور مکتب سے تشکیل پایا اور پروان چڑھا۔ ایران کے آقائے شہید بھی اسی مکتب میں  پروان چڑھے۔ وہ حسینیؑ تھے، حسینیؑ فکر کے حامل تھے، حسینیؑ انداز سے متحرک رہے، حسینیؑ جہاد و مقاومت پر کاربند رہے، حسینیؑ انداز سے زندگی بسر کی، اور حسینیؑ انداز سے اپنا خون مکتبِ حسینؑ کی راہ میں پیش کرکے جام شہادت نوش کر گئے۔ حسینیوں میں ایسے لوگ ہیں کہ جب وہ حسینؑ کی راہ میں اور حسین علیہ السلام کے مکتب اور روش پر اپنا خون مظلومانہ انداز سے زمین پر بہا دیتے ہیں تو امتِ اسلامیہ جنبش و حرکت میں آ جاتی ہے اور وہ لمحہ عاشورا سے اور وہ مقام  کربلا سے متصل ہو جاتا ہے۔ اب بھی وہی حسینیؑ جوش و جذبہ ہماری ملت کو بعثت عطا کر رہا ہے اور خمینیِ کبیر و خامنہ‌ایِ شہید کے مکتب کو ایک نیا جلوہ بخش دیتا ہے۔ یہ وہ حیات بخش  جوش و خروش ہے جو حسین علیہ‌السلام کی مظلومیت کی پکار اور "ہَلْ مِنْ نَاصِرٍ یَنْصُرُنِی" کی پکار کی گونج ایران اور پھر اس کے بعد عراق اور دیگر ممالک میں برپا کر دیتا ہے اور باطل کے وجود پر زلزلہ طاری کر دیتا ہے۔ اور یہ موقع ہے کہ میں اسی مناسبت سے شہروں اور دیہاتوں خصوصاً تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں کروڑوں انسانوں کی حیرت انگیز، دشمن شکن اور تاریخی حاضری پر دلی شکریہ ادا کروں۔

ہماری ملت حسینؑ کی خونخواہ ہے۔ اس عظیم ملت نے برسوں سے اپنے فرزندوں کو حسینؑ کی راہ میں اور حسینؑ اور حسینیؑ طریقے کے دشمنوں کے خلاف جنگ میں قربان کر دیا۔ اور اب وہ اس کے اور زمانے کے حسینیوں کی خونخواہ ہے۔

بدلہ ہماری قوم کا مطالبہ ہے، جو یقیناً لیا جائے گا

اب میں اپنے شہید پیشوا سے عرض کرتا ہوں: اے قتیلِ مظلوم! اے مظلومِ مظلوم! اے اللہ کے صالح بندے! اب جب ہم آنکھوں میں آنسو اور دلوں میں غم کے ساتھ آپ کے پیکر سے وداع سے وداع کر رہے ہیں، ہم آپ سے عہد کرتے ہیں کہ آپ کے مکتب کی پاسداری کریں کریں گے اور اس صراطِ مستقیم پر جو آپ نے ترسیم فرمائی، استقامت کے ساتھ گامزن رہیں گے اور اس راہ میں مشکلات سے ہراساں نہیں ہونگے، اور آپ کی طرح اللہ کی بشارتوں اور وعدوں سے دل باندھیں گے۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ جرا‏ئم پیشہ اور بےآبرو قاتلوں سے آپ کے پاکیزہ خون اور ان دو جنگوں کے تمام شہداء کا انتقام  لیں گے۔ یہ انتقام، ہماری ملت کا مطالبہ ہے اور یقیناً یہ انتقام ضرور لیا جائے گا۔ یہ جرائم پیشہ قاتلین - جن کی فہرست شروع سے آخر تک موجود ہے، آسائش کے ساتھ  بستر پر مرنے کی آرزو، اپنے ساتھ قبر میں  لے کر جائیں گے۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہ معاملہ میرے یا دوسرے ذمہ داران کے وجود پر موقوف نہیں ہے۔ ہم ہوں یا نہ ہوں، یہ کام ضرور انجام پائے گا اور عنقریب دنیا بھر کے حریت پسندوں میں سے کچھ لوگ اس الٰہی مشن کا کچھ حصہ انجام دیں گے۔

اے امت کے بابائے شہید! شہادت کا جامِ شہد جس کے آپ ایک عمر منتظر تھے، آپ کو مبارک ہو۔ شہادت کی خلعت آپ کو مبارک ہو اس جسم کے ساتھ جس پر آپ کی والدہ سیدہ فاطمۃ الزہراء (سلام اللہ علیہا) اور آپ کے جد امجد ابو عبد اللہ الحسین اور ابو الفضل العباس (علیہما الصلاۃ والسلام) کے نشانات ہیں۔

اور آپ رہبر شہید کے مظلوم ساتھیو! جو بے خبری میں دشمن کے اچانک حملوں کا نشانہ بنے اور جام شہادت نوش کر گئے، آپ کو بھی مبارک ہو کہ اب آپ اس مولاؑ کے مہمان ہیں  جن کی رأفت اور مہربانی کو شاید آپ نے کئی بار محسوس کیا تھا۔ وہ آقا جو سب کے لئے اور خاص کر اس سرزمین کے لوگوں کے لئے رحمتِ الٰہی کا دروازہ ہیں، اب آپ کے میزبان ہیں اور ان کا پرامن قُرْب و جَوار میں آپ کا گھر بن گیا ہے۔

اور آپ اے بلند مرتبہ آقا و سرور! اے بزرگوار! اے امام رئوف! اے ابوالحسن الرضا المرتضیٰؑ! خدا کے بہترین درود و صلوات ہوں آپ پر، اس وقت آپ اور عترت طاہرہؑ کے خادموں میں سے ایک خادم کا پاش پاش جسم، ـ برسوں کی مسلسل جدوجہد اور انتھک مجاہدت کے بعد اپنے خاندان کے ان شہداء کے اجسام کے ساتھ جو کربلا کے میدان کے شہداء میں سے کسی شہید کی یاد دلاتے ہیں، ـ اس پاکیزہ سرزمین پر چین و آرام پائے گا، اس دن تک جب اللہ کے حکم سے آفتاب عالمتاب، حضرت بَقِیَّۃُ اللہِ عَجَّلَ اللہُ تَعَالیٰ فَرَجَہُ الشَّرِیفَ، غیبت کے بادلوں کی اوٹ سے سے ظہور فرمائیں گے اور زمین کے لوگوں پر رحمتِ الٰہیہ کا نور پھیلائیں گے، اس دن، جس کے جلد آ نے کی ہمیں امید ہے، صدّیقین، شہداء اور اولیاء میں سے کئی ستارے آنحضرتؑ کا ساتھ دیں گے اور ہمیں امید ہے کہ ہمارے آقائے شہید بھی ان میں سے ایک ہوں گے اور ایک بار پھر مجاہدت اور عہدِ اَلَست کی وفا کے شاندار اور خالص مناظر کا مظاہرہ کریں گے اور شاید [آپ کے ساتھ شہید ہونے والے] یہ ساتھی اس دن بھی ان کا ساتھ دے رہے ہوں۔ن

اے مولائے رئوف [ام علی بن موسی الرضا علیہ السلام]! ہمارے آقا! جنہوں نے سب کچھ آپ کی راہ میں قربان کر دیا، اور ہم ان کے شہید ساتھیوں کو آپ اور آپ کے کرم و عنایت کے سپرد کرتے ہیں تاکہ جس طرح وہ اپنی دنیاوی زندگی میں آپ کے کرم سے مستفیض تھے، بعدازیں بھی اسی طرح اور اس سے بھی بہت زیادہ مستفیض و مستفید ہوں۔

آخر میں، میں ایک بار پھر اپنے سرور حضرت بَقِیَّۃُ اللہِ عَجَّلَ اللہُ تَعَالیٰ فَرَجَہُ الشَّرِیفَ سے تعزیت کرتا ہوں اور اس بزرگوار مہربان سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنی پاکیزہ دعائیں آقائے شہیدِ ایران اور ان کے شہید ساتھیوں اور تمام شہداء کی طرف متوجہ فرمائیں اور حضرت حق جلَّ وعلا سے تمام شہداء کے لئے درجات کی بلندیِ، ان کے پسماندگان کے لئے صبر و اجر اور مظلوم ملتِ ایران کے لئے حتمی و قطعی فتح و نصرت کی دعا فرمائیں، ان شاء اللہ

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

11 جولائی 2026ع‍

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

انتقام حتمی ہے/ مجرمین پر سکون موت کی آرزو، قبروں میں  لے کر جائیں گے ، رہبرِ انقلاب

رہبر انقلاب کی تصویر جو پہلی مرتبہ میڈیا پر شائع ہوئی

انتقام حتمی ہے/ مجرمین پر سکون موت کی آرزو، قبروں میں  لے کر جائیں گے ، رہبرِ انقلاب

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha